رابطہ

TAHLIA ST

ڈاک کیلئے
پروگرام کا نام ضرور لکھیں ۔
شعبہ اردو ریڈیو سعودی عرب جدہ سعودی عرب پوسٹل کوڈ 21161
ای میل کیلئے
[email protected]
[email protected]
پاکستان میں ڈاک کیلئے
R.S.A
منڈی احمد آباد ضلع اوکاڑہ پنجاب پاکستان

صرف ویب سائیٹ کے بارے میں تجاویز ارسال کریں ۔
[email protected]

٪ s تبصرے

  1. مجھے اور میرے بہت سے دوستوں کو بہت افسوس ہوا کہ آپ نے بجھو تو جانیں پروگرام بند کر دیا ہے۔ چلو انعام نہ سہی لیکن ہمیں علم تو حاصل ہوتا تھا بہت سی کتابیں کھنگالنے کا موقع مل جاتا تھا۔ براہ کرم اس پر نظر چانی ریں

    1. رفیق پرکار صاحب آپ کا بے حد شکریہ
      آپ بہت دور ہو گئے پروگراموں میں حصہ لیں ہم آپ کی شرکت پر مشکور ہوں گے ۔
      ویب سائیٹ سائیٹ کا دورہ کرتے رہیں اور ہمیں اپنے مشوروں سے کیا کریں ۔تاکہ ہم ویب سائیٹ کو بہتر بناسکیں ۔

  2. محترم آراکین شعبہ اردو، اسلام علیکم
    ہم تمام سامعین باقاعدگی سے نشریات سن رہے ہیں اور اپنے من پسند پروگراموں سے محظوظ ہورہے ہیں کیا اس دفعہ آپ کا 2015 کا کیلینڈر شائع ہوا ہے ؟

  3. ریڈیو کا عالمی دن ہر سال 13 فروری کو تما م دنیا میں منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا اعلان یونیسکو کی36ویں جنرل اسمبلی نے 3 نومبر 2011 ء کو کیا تھا۔ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کی تجویز سپین کی حکومت کی پیش کردہ تھی۔ اور یونیسکو کا اس تجویز پر عمل کرنے کا اہم مقصد یہ تھا کہ اس سہولت کو بروئے کار لاتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لئے ذیادہ پرامن اور بہترین مستقبل پیدا کیا جاسکے ۔اس دن کو منانے کا ایک اور اہم مقصد یہ بھی ہے کہ تمام براڈکاسٹرز کے درمیان بین الاقوامی تعاون کو بڑھایا جائے،ذیادہ سے ذیادہ معلومات تک رسائی ممکن ہو اور سب سے بڑھ یہ کہ اظہار ِرائے کی آزادی کو فروغ مل سکے۔ ابلاغ کے ذرائع روز بروز جدت اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں تاہم اکیسویں صدی میں بھی ریڈیو کی اہمیت کم نہیں ہو سکی۔ دنیا بھر میں آج ریڈیو کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ دنیا کا پہلا ریڈیو اٹھارہ سو ستانوے میں امریکا میں ایجاد کیا گیا۔ آج بھی ریڈیو ابلاغ کا ایسا واحد ذریعہ ہے جسے کہیں بھی بآسانی سنا جا سکتا ہے۔ ایک صدی گزرنے کے باوجود اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ریڈیو کا عالمی دن پہلی بار دو سال پہلے منایا یہ دن منانے کا مقصد لوگوں میں ریڈیو کے ذریعے معلومات کے حصول کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریڈیو اطلاعات کے حصول اور تفریح کا مقبول ذریعہ ہے جہاں ٹی وی کی رسائی نہیں وہاں ریڈیو ہی لوگوں کو دنیا کے حالات سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ ایف ایم کے آنے سے ریڈیو کی گرتی مقبولیت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ بچے ہوں بڑے یا خواتین گھروں اور گاڑیوں میں سبھی شوق سے ریڈیو سنتے ہیں۔ کیونکہ ریڈیو کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے ثقافتی ،سماجی، سیاسی،اور اقتصادی پہلوئوں بارے مدد ملتی ہے اور اس کے علاوہ مقامی ثقافتوں اور مقامی زبانوں کے پروگرام نشر کر کے لوگوں تک معلومات پہنچائی جاتی ہیں اور ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ترقی پذیر ممالک میں حالات ِ حاضرہ سے آگاہی یا معلوماتی سرگرمیوں کے میدان میں ریڈیو ابھی بھی ایک بڑا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔جیسے کہ زراعت کے سلسلے میں زرعی پروگراموں کے زریعے معلومات کسانوں تک براہ راست پہنچائی جاتی ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دیہاتوں میں آج بھی لوگ ریڈیو بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ دنیا بھر میں ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد 51 ہزار 884 ہے۔ عالمی سطح پر (60فیصد) 31 ہزار 220 ریڈیو اسٹیشنز 10 ممالک امریکا ،اٹلی ،فرانس ،روس ، برازیل ، میکسیکو، ترکی ، فلپاین ، برطانیہ اور پیرو میں کام کر رہے ہیں۔ ایک چوتھائی (13ہزار769) ریڈیو اسٹیشنز اکیلے امریکا میں ہیں۔ پاکستان میں ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد 203 ہے۔ سرکاری ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد 56 ہے جس میں سے 22 میڈیم ویوو اور 34 ایف ایم ریڈیوا سٹیشنز ہیں۔ اس کے علاوہ 147 پرائیوٹ ایف ایم اسٹیشنز کام کر رہے ہیں۔ 119 کمرشل جبکہ 28 مختلف یونیورسٹیوں کے ڈپارٹمنٹس میں نان کمرشل ایف ایم اسٹیشنز ہیں۔ مجموعی طور پر 181 ایف ایم اسٹیشنز کام کر رہے ہیں۔ انٹر نیشنل ٹیلی کمیو نیکشن کے مطابق دنیا کی 90 فیصد آبادی تک ریڈیو سگنل کی رسائی ہے جبکہ ریڈیو سیٹس ڈھائی ارب ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فونز پر ریڈیو سننے کی اضافی سہولت نے ریڈیو سماعت کو ایک نئی جہت دی۔ یونیسکو کے مطابق عالمی سطح پر 2000 سے 2006 کے دوران انٹر نیٹ پر ریڈیو سننے والوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف امریکا میں8کروڑ افراد ریڈیو سننے کے لیے انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ ملک میں پرائیویٹ اور سرکاری ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کے قیام اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے ریڈیو کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کی جانب سے 2008 میں پاکستان میں 15 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں کئے گئے سروے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ریڈیو سننے والے 30 فیصد بالغ مرد اور 20 فیصد بالغ خواتین موبائل فون پر ریڈیو سنتے ہیں اور اسی طرح 4/ فیصدبالغ مرد اور 3 فیصد بالغ خواتین گاڑیوں میں سفر کے دوران ریڈیو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ریڈیو سامعین نے لسنرز کلب قائم کیئے ہوئے ہیں جہاں باقاعدگی سے ریڈیو نشریات سنی جاتی ہیں ان پر تبصرے کیئے جاتے ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے لسنرز کلب کی تعداد میں اب خاصہ اضافہ ہوچکا ہے جو کہ نہ صرف ریڈیو نشریات سنتے ہیں بلکہ ریڈیو کے حوالے سے مختلف پروگرام بھی ترتیب دیتے ہیں ان ہی کلبوں میں سے ایک کراچی میں قائم انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز کلب ہے جو 1986 سے ریڈیو نشریات سے لوگوں کو متعارف کرارہا ہے ، پاکستان میں سامعین جن نشریاتی اداروں کو بہت شوق سے سنتے ہیں ان میں چائیناء ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس ہے جو کہ شارٹ ویو کے علاوہ ایف ایم پر بھی دستیاب ہوتی ہیں ریڈیو جاپان کی اردو سروس، سعودی عالمی ریڈیو کی اردو نشریات، بی بی سی کی اردو نشریات ، ریڈیو تہران کی اردو نشریات جو کہ 24 گھنٹوں میں 3 بار نشر ہوتی ہیں اور صدائے ترکی کی نشریات قابل زکر ہیں ۔ نشریات کی دنیا میں 2 نام اور تھے لیکن اب ان نشریاتی اداروں نے اپنی اردو نشریات بند کردی ہیں ان میں ان نام ڈی ڈبلیو دی وائس آف جرمنی جس نے 50 سال تک اردو نشریات جاری رکھیں لیکن 2015 میں اسے بند کردیا گیا بلکل اسی طرح ریڈیو ماسکو جو کہ بعد میں صدائے روس کے نام سے اردو نشریات نشر کررہا تھا 85 سال کامیابی سے نشریات نشر کرنے کے بعد 2015 میں اپنی اردو نشریات بند کردی۔
    اب جہاں تک پاکستان میں ریڈیو صحافت کی تاریخ اور ریڈیو صحافت کا تعلق ہے ۔تو 1947ء میں علیحدگی کے وقت انڈیا کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں درجن سے ذائد ریڈیو اسٹیشن کام کر رہے تھے لیکن پارٹیشن کے بعد پاکستان کے حصے میں صرف تین ریڈیو اسٹیشن لاہور ،پشاور اور ڈھاکہ آئے تھے۔اور اس کے ساتھ سنٹرل نیوز آرگنائزیشن کے تمام مسلم افسران اور وہا ں کے عملے کو بھی یہ اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا انڈیا میں کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔ لیکن ان سب نے نئے وطن یعنی پاکستان کا ہی انتخاب کیا۔ اب اس شعبے میں مہارت رکھنے والے لوگ تو موجود تھے لیکن پاکستان کے حصے میں جو ریڈیو اسٹیشن آئے تھے وہاں انتہائی کم پاور ٹرانسمیٹر تھے ان کی ذیادہ رینج نہیں تھی۔ پاکستان کے قیام کا اعلان سب سے پہلے لاہور اور ڈھاکہ کے ہی ریڈیو اسٹیشن پر ایک خصوصی ٹرانسمیشن کے زریعے 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب میں کیا گیا ۔اور ہمارے اس قومی زرائع سے پہلا خبری بلیٹن یا پہلا خبرنامہ 14 اگست کو نشر کیا گیا ۔ آج بھی ریڈیو پر خبرنامہ پیش کیا جاتا ہے لیکن ریڈیو پر خبرنامہ کا دورانیہ عام طور پر تھوڑا ہو تا ہے۔ اس پر نشر کی جانے والی خبروں میں صداقت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کیو نکہ غلط خبریں نہ صرف سامعین کی غلط سمت رہنمائی کرتی ہیں بلکہ قوم کے تشخص کو بھی متاثر کرتی ہے ۔اس کے علاوہ ریڈیو کی خبروں میں سادہ ذبان استعمال کی جاتی ہے تا کہ ان پڑھ یا کم پڑھا لکھا شخص بھی اسے آسانی سے سمجھ سکے اور یہ ریڈیو ایڈیٹر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان خبروں میں ذاتی احساسات و جذبات کو نظر انداز کر کے یعنی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سننے والوں تک اصل سچ پہنچائے۔ مانا کہ ٹیلی وژن کی اپنی ایک اہمیت یا کشش ہے لیکن آج کے دور میں بھی ریڈیو کی اہمیت سے انکار نہ ممکن ہے۔ کیونکہ ابھی بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ٹیلی وژن پر نشریات کا حصول آسانی سے ممکن نہیں لیکن وہاں ریڈیو کی کارکردگی بڑی موئثر رہتی ہے۔ ویسے بھی جن جگہوں پر بجلی کی سہولت میسر نہ ہو وہاں سیلوں کے زریعے چلنے والے ریڈیو کو استعمال کرتے ہوئے لوگ حالات ِحاضرہ سے جانکاری حاصل کر لیتے ہیں۔ جنگوں کے دوران نئی معلومات یا حالات بارے آگاہی حاصل کرنے کے لئے لوگ ریڈیو سے بڑا مستفید ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ ریڈیو ہی ایک ایسا واحد موئثر زریعہ ابلاغ ہے جو ذیادہ سے ذیادہ آبادی تک معلومات پہنچا سکتا ہے۔ اس خوبی کی وجہ سے ہی ریڈیو کو ‘ یونیورسل میڈیم ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ریڈیو تفریح کا بھی ایک بڑا زریعہ جانا جاتا ہے۔ا س پر موسیقی کے پروگراموں سے لوگ بڑے لطف اندوز ہوتے ہیں۔آج کی نسل ریڈیو کے صرف نام سے ہی واقف ہوتی اگر موبائل فون میں ریڈیو کی سہولت موجود نہ ہوتی۔اس پر مختلف تفریحاتی پروگراموں اور خاص طور پر فرمائشی یا اپنی پسند کے گانوں نے موجودہ نسل میں ریڈیو سننے کی عادت یا شوق کو ذندہ رکھا ہو ا ہے۔ ریڈیو پر مختلف پروگراموں میں ایک ‘ٹاپک ‘رکھا جاتا ہے اور پھر کالرز اس بارے اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی پسند کے گانوں کی فرمائش بھی کر دیتے ہیں آج کے دور میں آئے روذ نئے سے نئے ٹی وی چینلز دیکھنے کو مل رہے ہیں لیکن ریڈیو صحافت آج بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
    علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایکسٹرنل طالب علموں کو بھی بزریعہ ریڈیو لیکچر دیئے جاتے ہیں اسی طرح پاکستان میں اپنی نشریات نشر کرنے والا ہر نشریاتی ادارہ اپنی زبان سیکھانے کا پرگروگرام نشر کرتا ہے اور اس سے متعلق کتابیں بھی سامعین کی رہنمائی کے لیے روانہ کی جاتی ہیں جس سی گھر بیٹھے بغیر کسی فیس کے دنیا کی مختلف زبانیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے کئی نشریاتی ادارے معلومات عامہ کے حوالے سے انعامی مقابلوں کا بھی انعقاد کرتے ہیں جن میں کامیاب سامعین میں کئی قیمتی انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں اور اگر کوئی خصوصی انعامی مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے تو ان سامعین کو اپنے ملک کی سیر کرائی جاتی ہے یہ کہنا بجا ہوگا کہ جدید دور نے صرف ریڈیو کی شکل یا ریڈیو سننے کے زرائع ہی بدلے لیکن اس کی افادیت اور ضرورت میں ایک رتی کمی واقع نہیں ہوئی آج کے مصروف ترین دور میں بھی لوگ ریڈیو شوق سے سنتے ہیں ۔

  4. السلام علیکم میری گزارش یہ ہے کہ اگر آپکی ویب سائٹ پر سعودی عرب آنے والوں اور وہاں کام کرنے والوں کے لئے وہاں کے قوانین سے آگہی کی صورت پیدا ہو جائے کیونکہ اآپ حضرات تو وہاں رہتے ہٰیں اور ہر نئے نافذ ہونے والے قانون کا آپ کو علم ہوگا تو یہ آپ لوگوں کی طرف سے بہت بڑا کام ہوجائے گا اور بہت سارے لوگ انجانے میں نقصان اٹھانے سے بچ جائیں گے اگر آپ کے علم میں کوئی ویب سائٹ ہے اردو میں تو اس سے مطلع فرمادیں

    شکریہ

  5. میں آپ کو تواتر سے نشریات میں خلل سے آگاہ کرتا رہا ہوں اگر یہ نشریات کو بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی تیکنیکی مسعلہ تھا تو یہ اچھی بات ہے کہ اب نشریات مزید بہتر ہوجائینگی اور یہ بھی خوش آئیند ہے کہ ب ایف ایم اور انٹرنیٹ پر دوبارہ نشریات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں

  6. السلام علیکم ورحمت اللہ و برا اتہ.
    مکرمی,
    نشریات کی اصلاحات سے متعلق تائیدی میل 12oct,کو ہم ارسال کیا تھا, مگر آپ نے اسے 18oct کے پرووگرام میں شامل نہہیں,کیا,انٹرنیٹ پر دوبارھ نشریات جاری کئے جاانے کی بات تو ہم کئی سال سے سن رہے ھیں,غالباً 15سال سے ذائد عرصہ پہلے انٹرنیٹ پر کچھ عرصے کے لئے جاری کیا گیا تھا اس طویل عرصے میں ہونے والی کوششوں کو کیا نام دیا جائے.

  7. 19 اکتوبر کو نشر ہونے والے پروگرام سنے جس میں کلام شاعر بزبان شاعر میں محترمہ سمبل صاحبہ کا خوبصورت کلام سنا بہت اچھا لگا اس کے علاوہ پروگرام مجھے ہدایت کسی ملی بھی بہت ایمان افروز تھا اور سلسلہ اقوال زریں میں رسول اللہ ﷺ کے خوبصورت اقوال سن کر ایمان تازہ ہوگیا

  8. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    امید کہ آپ بخیر وعافیت سے ہوں گے
    آپ نے سعودی ریڈیو کے لئے جو ویب سائٹ بنائی ہے اور مستفیدین کو استفادہ کا ایک سنہری موقع عنایت کیا ہے ہم اس پر آپ کے بیحد ممنون ہیں کاش کہ ہم بھی اس طرح کی خدمت کر پاتے لیکن افسوس کہ میری کافی مصروفیات ہیں اور ہم چند دنوں کے لئے ہی خدمت کر پائے اور آپ چونکہ اپنی سائٹ پر معلومات کا انبار لگادیتے ہیں ماشاء اللہ تو پھر سورج کے سامنے دیا جلا کر میں کیا کروں گا
    اللہ آپ کو اور سعودی ریڈیو کے تمام ممبران وکارکنان کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی سے نوازے اور ناچیز کیلئے آپ لوگ دعا کریں
    اور عالی جناب لئیق اللہ خان سے التماس ہے کہ وہ واٹ ساپ گروپ بھی بنائیں تاکہ سعودی ریڈیو سے متعلق اپڈیٹ سے لوگوں کو آگاہی ملتی رہے اور آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں تمام نشریات کو آڈیو کی شکل میں لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے
    لہذا آپ ان سے التماس کریں
    آپ کا دینی بھائی
    عبدالحنان خان

  9. بعد سلام مسنون,
    محترم…
    ڈاکٹر سید سعید عابدی صاحب کے پروگرام "یہ حدیث نہیں ہے” کی ریکارڈنگ کیوں اپ لوڈ نہیں کی گئی ہے..اور روزآنہ کے تازہ پروگرام کم از کم 24 گھنٹے کے لئے ضرور اپ لوڈ کئے جائیں…ای میلز کے جواب بھی ضرور دئے جائیں.
    والسلام.

    1. جی انشاء اللہ چند وجوہات کی بنا پر ریکارڈنگ درست نہیں ہو سکی ہم انشاء اللہ کوشش میں ہیں کہ انٹرنیٹ پر ایف ایم پر اور موبائل پر براہ راست اردو نشریات چلانے کی کوشش میں ہیں اور اب ہم امید کرتے ہیں جلد ہی نشریات چل جائے گی بعد میں ویب سائیٹ پر بھی بھی ریکارڈنگ کا سلسلہ شروع کردیں گے ۔

  10. بعد سلام مسنون,
    آج سے دو یا تین دن پہلے کسی سامع کے خط کے زریعے آپ انٹرنیٹ پر پروگرام سننے کے بارے میں بتا رہے تھے جسے میں برابر سن نہیں سکا,
    براہ کرم بذریعہ ای میل اس سائٹ یا ویب ایڈریس سے مطلع فرمائیں جس پر پروگرام لائیو سنا جا رہا ہے,
    ضمیر الدین
    برھان پور
    انڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Solve : *
19 ⁄ 1 =


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close